تاریخِ اسلام
اسلام ساتویں صدی میں جزیرۂ عرب میں شروع ہوا۔ اس کا آغاز اُس پیغام سے ہوا جو حضرت محمد ﷺ کو عطا کیا گیا، جس میں لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت اور عدل، رحمت اور اچھے اخلاق کے ساتھ زندگی گزارنے کی دعوت دی گئی۔
آغازِ نبوت
سن 610 عیسوی میں حضرت محمد ﷺ پر مکہ میں پہلی وحی نازل ہوئی۔ اگلے 23 برسوں تک آپ ﷺ نے توحید، اخلاقی ذمہ داری اور آخرت کی جوابدہی کا پیغام پہنچایا۔
مکہ میں مخالفت اور ظلم کے بعد، آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے 622 عیسوی میں مدینہ ہجرت کی۔ اسی ہجرت سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز ہوتا ہے۔
ابتدائی مسلم معاشرہ
مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ قائم ہوا جو عدل، مشاورت اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی اسلام پورے عرب میں پھیل گیا۔
632 عیسوی میں آپ ﷺ کے وصال کے بعد خلافت کا نظام قائم ہوا، اور اسلام عرب سے باہر دیگر علاقوں تک پھیلنے لگا۔
مسلم تہذیب کی ترقی
آنے والی صدیوں میں مسلمانوں نے علم، طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، فن تعمیر اور ادب میں نمایاں ترقی کی۔
بغداد، قاہرہ، قرطبہ اور استنبول جیسے شہر علم و تہذیب کے بڑے مراکز بن گئے۔
آج کا اسلام
آج اسلام دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد کا دین ہے۔ مختلف ثقافتوں کے باوجود بنیادی عقائد ایک ہی ہیں:
- ایک اللہ پر ایمان
- انبیاء پر ایمان
- قرآن کو آخری الہامی کتاب ماننا
- نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج
تاریخِ اسلام صرف سیاسی واقعات کا نام نہیں، بلکہ یہ روحانی ترقی، علم کی خدمت اور اخلاقی معاشرے کی تعمیر کی تاریخ بھی ہے۔